نئی دہلی، 12/ فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) گزشتہ چند ہفتوں میں آئے اقتصادی اعداد و شمار سے ایسا لگ رہا تھا کہ اب معیشت سست روی سے نکل رہی ہے، لیکن چہارشنبہ کو مہنگائی اور صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار سے ایک بار پھر حکومت کی فکر بڑھ گئی ہے۔کھانے پینے کا سامان مہنگا ہونے سے جنوری میں خوردہ مہنگائی بڑھ 7.59 فیصد تک پہنچ گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صارفین کی قیمت بنیاد خوردہ افراط زر دسمبر 2019 میں 7.35فیصد رہی تھی۔وہیں، گزشتہ سال جنوری مہینے میں 1.97فیصد رہی تھی۔جنوری 2019 میں مہنگائی کی شرح 2.05فیصد رہی تھی۔جنوری میں مہنگائی کی شرح ریزرو بینک (آربی آئی) کے 4 فیصد کے ہدف سے کافی اوپر رہی ہے۔وہیں، دسمبر میں صنعتوں کی رفتار میں بھی کمی درج کی گئی ہے۔صنعتی پیداوار کی ترقی کی شرح دسمبر میں 0.3فیصد گھٹ کر 2.5فیصد رہی۔مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار میں کمی سے یہ کمی آئی ہے۔بجلی کی پیداوار گھٹ کر 0،1فیصد رہی، جبکہ دسمبر 2018 میں اس میں 4.5فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔کان کنی کے شعبے کی پیداوار میں 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ، جبکہ اس میں پہلے 1 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔رواں مالی سال کے اپریل دسمبر کی مدت میں شرح نمو کم ہوکر 0.5فیصد رہی، جو مالی سال 2018-19 کی مدت میں 4.7فیصد تھی۔ جاری اعداد و شمار کے مطابق، خوراک افراط زر گھٹ کر 13.63فیصد رہی، جو دسمبر 2019 میں 14.14فیصدرہی تھی۔